کلامِ داغردیف ن

دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں

۱

دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیں

۲

آپ نے گھر سے نکالا ہمیں ہم جاتے ہیںپھر نہ آئیں گے کبھی کھا کے قسم جاتے ہیں

۳

بے خطا سر مرے قاصد کا قلم ہوتا ہےغیر کو تحفہ میں بن بن کے قلم جاتے ہیں

۴

دل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نےلے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں

۵

حضرت داغؔ یہ ہے کوچۂ قاتل اٹھیےجس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں

۸۹ / ۱۷۹