کلامِ داغردیف ن

راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں

۱

راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں

۲

یہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میںآزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں میں

۳

غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالمکیا مرے قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں میں

۴

ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہدخاک اڑتی کبھی دیکھی نہ خراباتوں میں

۵

یا رب اس چاند کے ٹکڑے کو کہاں سے لاؤںروشنی جس کی ہو ان تاروں بھری راتوں میں

۶

تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہہ دولطف ان باتوں میں آتا ہے کہ ان باتوں میں

۷

دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتےہائے پیدا نہ ہوئے پاؤں مرے ہاتھوں میں

۸

جلوہ یار سے جب بزم میں غش آیا ہےتو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں میں

۹

ایسی تقریر سنی تھی نہ کبھی شوخ و شریرتیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں میں

۱۰

ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوافیصلہ خوب کیا آپ نے دو باتوں میں

۱۱

ہفت افلاک ہیں لیکن نہیں کھلتا یہ حجابکون سا دشمن عشاق ہیں ان ساتوں میں

۱۲

اور سنتے ابھی رندوں سے جناب واعظچل دئے آپ تو دو چار صلٰواتوں میں

۱۳

ہم نے دیکھا انہیں لوگوں کو ترا دم بھرتےجن کی شہرت تھی یہ ہرگز نہیں ان باتوں میں

۱۴

بھیجے دیتا ہے انہیں عشق متاع دل و جاںایک سرکار لٹی جاتی ہے سوغاتوں میں

۱۵

دل کچھ آگاہ تو ہو شیوۂ عیاری سےاس لئے آپ ہم آتے ہیں تری گھاتوں میں

۱۶

وصل کیسا وہ کسی طرح بہلتے ہی نہ تھےشام سے صبح ہوئی ان کی مداراتوں میں

۱۷

وہ گئے دن جو رہے یاد بتوں کی اے داغؔرات بھر اب تو گزرتی ہے مناجاتوں میں

۹۰ / ۱۷۹