کلامِ داغردیف ن
سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوں
۱
سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوںمانند آبلہ ہمہ تن آب دیدہ ہوں
۲
گر تو نہ ہو تو پھر کسی کافر کا دل لگےدوزخ میں آرمیدہ ارم سے رمیدہ ہوں
۳
اللہ ر کشاکش دیر و حرم کہ میںظالم ہزار ہاتھ سے دامن دریدہ ہوں
۴
پروانہ پاس شمع کے بلبل ہے گل کے پاساک میں کہ تیری بزم میں خلوت گزیدہ ہوں
۵
افتادگی پہ بھی نہ گئی اس کی جستجوگویا زمیں پہ سایۂ مرغ پریدہ ہوں
۶
اے آرزوئے تازہ نہ کر مجھ سے چھیڑ چھاڑمیں پائے شوق و دست تمنا بریدہ ہوں
۷
اے داغؔ جس کے واسطے روز جزا بناوہ کون ہے وہ میں ہی تو آفت رسیدہ ہوں
۹۱ / ۱۷۹