کلامِ داغردیف ن
محبت میں آرام سب چاہتے ہیں
۱
محبت میں آرام سب چاہتے ہیںمگر حضرت داغؔ کب چاہتے ہیں
۲
خطا کیا ہے ان کی جو اس بت کو چاہاخدا چاہتا ہے تو سب چاہتے ہیں
۳
وہی ان کا مطلوب و محبوب ٹھہرابجا ہے جو اس کی طلب چاہتے ہیں
۴
مگر عالم یاس میں تنگ آ کریہ سامان آفت عجب چاہتے ہیں
۵
اجل کی دعا ہر گھڑی مانگتے ہیںغم و درد و رنج و تعب چاہتے ہیں
۶
نہ تفریح آسائش دل کی خواہشنہ سامان عیش و طرب چاہتے ہیں
۷
قیامت بپا ہو نزول بلا ہویہی آج کل روز و شب چاہتے ہیں
۸
نہ معشوق فرخار سے ان کو مطلبنہ یہ جام بنت العنب چاہتے ہیں
۹
نہ جنت کی حسرت نہ حوروں کی پروانہ کوئی خوشی کا سبب چاہتے ہیں
۱۰
نرالی تمنا ہے اہل کرم سےستم چاہتے ہیں غضب چاہتے ہیں
۱۱
نہ ہو کوئی آگاہ راز نہاں سےخموشی کو یہ مہر لب چاہتے ہیں
۱۲
خدا ان کی چاہت سے محفوظ رکھےیہ آزار بھی منتخب چاہتے ہیں
۱۳
غم عشق میں داغؔ مجبور ہو کرکبھی جو نہ چاہا وہ اب چاہتے ہیں
۹۲ / ۱۷۹