کلامِ داغردیف ن

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

۱

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیں

۲

شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیںکہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں

۳

نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحتبرابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں

۴

جو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہےجو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں

۵

پڑا ہوں سر زم میں دم چرائےمگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں

۶

کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہےفرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں

۷

کہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصلسبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں

۸

وہ نادان انجان بھولے ہیں ایسےکہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں

۹

نہیں جانتے اس کا انجام کیا ہےوہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں

۱۰

سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہدمگر رند اس کو ولی جانتے ہیں

۹۳ / ۱۷۹