کلامِ داغردیف ن
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیںجہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں
گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزریپریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں
جو رکھے چارہ گر کافور دونی آگ لگ جائےکہیں یہ زخم دل شرمندہ مرہم بھی ہوتے ہیں
وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھومجھی پر سحر ہوتے ہیں مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں
زمانہ دوستی پر ان حسینوں کی نہ اترائےیہ عالم دوست اکثر دشمن عالم بھی ہوتے ہیں
بظاہر رہنما ہیں اور دل میں بدگمانی ہےترے کوچے میں جو جاتا ہے آگے ہم بھی ہوتے ہیں
ہمارے آنسوؤں کی آبداری اور ہی کچھ ہےکہ یوں ہونے کو روشن گوہر شبنم بھی ہوتے ہیں
خدا کے گھر میں کیا ہے کام زاہد بادہ خواروں کاجنہیں ملتی نہیں وہ تشنۂ زمزم بھی ہوتے ہیں
ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے عشق اے ناصحجدائی کس طرح سے ہو جدا توام بھی ہوتے ہیں
نہیں گھٹتی شب فرقت بھی اکثر ہم نے دیکھا ہےجو بڑھ جاتے ہیں حد سے وہ ہی گھٹ کر کم بھی ہوتے ہیں
بچاؤں پیرہن کیا چارہ گر میں دست وحشت سےکہیں ایسے گریباں دامن مریم بھی ہوتے ہیں
طبیعت کی کجی ہرگز مٹائے سے نہیں مٹتیکبھی سیدھے تمہارے گیسوئے پر خم بھی ہوتے ہیں
جو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں مر جاؤجو غش آتا ہے تو مجھ پر ہزاروں دم بھی ہوتے ہیں
کسی کا وعدۂ دیدار تو اے داغؔ برحق ہےمگر یہ دیکھیے دل شاد اس دن ہم بھی ہوتے ہیں
۹۴ / ۱۷۹