مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
فسانۂ درد و غم سنایا تو بولے وہ جھوٹ بولتا ہےسنی ہوئی ہے بہت کہانی نہ ہم سے ایسی بگھار باتیں
About this couplet
This is couplet 3 of 6 in “مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۳ / ۶