مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
ابھی سے ہے کچھ اداس قاصد ابھی سے ہے بد حواس قاصدسنبھل سنبھل کر سمجھ سمجھ کر کرے گا کیا بے قرار باتیں
About this couplet
This is couplet 4 of 6 in “مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۴ / ۶