کلامِ داغردیف ن

کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمن

۱

کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمندوست نادان ہے دانا دشمن

۲

دیکھے گر اس کی پلک یا اللہتو ہو تیروں کا نشانہ دشمن

۳

دیدہ تر نہ بہانا آنسوڈھونڈھتے ہیں یہ بہانہ دشمن

۴

دوست کو دوست نہ سمجھا تم نےاور دشمن کو نہ جانا دشمن

۵

دوستی کی نہ رہے پھر امیدکاش ہو جائے زمانہ دشمن

۶

دشمن جاں ہیں بہت پر اے عشقتجھے جانا تجھے مانا دشمن

۷

تم سمجھتے ہو اسے یار قدیمدل ہے اے داغؔ پرانا دشمن

۹۶ / ۱۷۹