کلامِ داغردیف ن
چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں
۱
چاک ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیںورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں
۲
سجدے کرنے سے مٹا خط جبیں اے زاہدہم کہے دیتے ہیں قسمت میں تری حور نہیں
۳
محتسب مانع علت ہے گمان مے سےسونگھنے کو بھی میسر مجھے انگور نہیں
۴
لب تک آئی تھی شکایت کہ محبت نے کہادیکھ پچھتائے گا خاموش یہ دستور نہیں
۵
رات دن نامہ و پیغام کہاں تک ہوں گےصاف کہہ دیجئے ملنا ہمیں منظور نہیں
۶
تم نے دی کوہ کن و قیس سے مجھ کو نسبتکوئی دیوانہ نہیں میں کوئی مزدور نہیں
۷
کیا کرے داغؔ کوئی اس کی محبت کا علاجوہ کلیجہ ہی نہیں جس میں یہ ناسور نہیں
۹۷ / ۱۷۹