کلامِ داغردیف ن

پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میں

۱

پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میںدیا نصیب نے اچھا جواب رستے میں

۲

یہ سچ ہے راہ محبت بڑی ہے ٹیڑھی کھیرنہ آئے خضر کبھی اس خراب رستے میں

۳

بھٹکتے پھرتے ہیں اس رہ گزار میں عاشقمسافروں کی ہے مٹی خراب رستے میں

۴

گلی سے یار کی ہم اٹھ کے چل چکے تھے مگرمچل گیا دل پر اضطراب رستے میں

۵

وہ رستہ کاٹ کے چلتے ہیں اس لئے مجھ سےکہ کچھ کہے نہ یہ خانہ خراب رستے میں

۶

بغل میں داب کے لے چل عدم کو شیشۂ مےملے گی داغؔ نہ تجھ کو شراب رستے میں

۹۸ / ۱۷۹