کلامِ داغردیف ن
کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میں
۱
کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میںمزہ ہے رات دن چلتی رہے پرہیزگاروں میں
۲
جنوں میں دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہےپڑی ہے آبلوں میں پھوٹ اور ایکا ہے خاروں میں
۳
وہ شرمائی ہوئی آنکھیں وہ گھبرائی ہوئی باتیںنکل کر گھر سے وہ گھرنا ترا امیدواروں میں
۴
پلک اٹھتی نہیں میری طرف کیا تھک گئیں آنکھیںابھی تو ہو رہی تھیں غیر سے باتیں اشاروں میں
۵
کوئی جنت کا خواہاں ہے کوئی کوثر کا طالب ہےاڑا کرتی ہے بے پر کی ہمیشہ بادہ خواروں میں
۶
جلانا داغؔ کا اچھا نہیں یہ دم غنیمت ہےکہ ایسا با وفا اک آدھ نکلے گا ہزاروں میں
۹۹ / ۱۷۹