کلامِ داغردیف ن

کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں

۱

کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیںجی بہل جائے گا کہیں نہ کہیں

۲

ہے کدورت بھری ہوئی اس میںآسماں پر بھی ہو زمیں نہ کہیں

۳

حال پہلو بچا کے لکھا ہےتاڑ جائے وہ نکتہ چیں نہ کہیں

۴

آپ کی گفتگو کا کیا کہناچار باتیں بھی دل نشیں نہ کہیں

۵

غیر دیتا ہے کیوں مجھے ساغرسانپ ہو زیر آستیں نہ کہیں

۶

تیرے عاشق ہیں کافر و دیں دارایک ہو جائے کفر و دیں نہ کہیں

۷

داغؔ پھر تاک جھانک کرتے ہیںاب گھرے اب پھنسے کہیں نہ کہیں

۱۰۰ / ۱۷۹