کلامِ داغردیف ر

پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر

۱

پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکریہ بلا گھر سے نکالی ہوئی آئی کیونکر

۲

کٹ سکے سختی ایام جدائی کیونکرغیر کو آئے الٰہی مری آئی کیونکر

۳

تو نے کی غیر سے کل میری برائی کیونکرگر نہ تھی دل میں تو لب پر ترے آئی کیونکر

۴

نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہرگزجا کے اس بزم میں شامت مری آئی کیونکر

۵

کھل گئی بات جب ان کی تو وہ پوچھتے ہیںمنہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہے پرائی کیونکر

۶

دادخواہوں سے وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو سنیںدوگے تم حشر میں سب مل کے دہائی کیونکر

۷

تم دل آزار و ستم گر نہیں میں نے مانامان جائے گی اسے ساری خدائی کیونکر

۸

ناگہاں شکوۂ بیداد تو کر بیٹھے ہماب یہ ہے فکر کریں ان سے صفائی کیونکر

۹

آپ میں بھی تو رہی آتش تر کی تیزیآگ پانی میں یہ ساقی نے لگائی کیونکر

۱۰

اللہ اللہ بتوں کو ہے یہ دست قدرتان کی مٹھی میں رہی ساری خدائی کیونکر

۱۱

وہ یہاں آئیں وہاں غیر کا گھر ہو برباداس طرح سے ہو صفائی میں صفائی کیونکر

۱۲

مجلس وعظ کو دیکھا تو کہا رندوں نےہوگی اس بھیڑ کی جنت میں سمائی کیونکر

۱۳

آئینہ دیکھ کر وہ کہنے لگے آپ ہی آپایسے اچھوں کی کرے کوئی برائی کیونکر

۱۴

کثرت رنج و الم سن کے یہ الزام ملااتنے سے دل میں ہے اتنوں کی سمائی کیونکر

۱۵

اس نے صدقے میں کئے آج ہزاروں آزاددیکھیے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیونکر

۱۶

داغؔ کو مہر کہا اشک کو دریا ہم نےاور پھر کرتے ہیں چھوٹوں کی بڑائی کیونکر

۱۷

داغؔ کل تو دعا آپ کی مقبول نہ تھیآج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیونکر

۴۸ / ۱۷۹