کلامِ داغردیف ر
مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر
۱
مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کرستم کیجے تو تھم تھم کر جفا کیجے تو رہ رہ کر
۲
ملے تھے آج مدت میں بہت روئے بہت تڑپےوہ درد عشق سن سن کر ہم اپنا درد کہہ کہہ کر
۳
ہوئی ہے شمع محفل تو شریک گریۂ عاشقتجھے اے قلقل مینا کہا تھا کس نے قہہ قہہ کر
۴
چھپایا زلف نے چہرہ تو شوخی نے کیا ظاہرہزاروں بار نکلا وصل کی شب چاند گہہ گہہ کر
۵
تڑپنے میں مزہ آتا ہے اس کم بخت کے ہم کواگر دل یاس سے بیٹھا ابھارا ہم نے کہہ کہہ کر
۶
یہ جانا تھا نہ آئیں گے تو کیوں جانے دیا ان کویہی اے داغؔ پچھتاوا مجھے آتا ہے رہ رہ کر
۴۹ / ۱۷۹