کلامِ داغردیف ر

کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کر

۱

کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کرلگائیں وہ تہمتیں کہ بولا خدا خدا کر خدا خدا کر

۲

تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالمرلا رلا کر گھلا گھلا کر جلا جلا کر مٹا مٹا کر

۳

شراب خانہ ہے یہ تو زاہد طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹےکہ توبہ کرتے گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پا کر

۴

نگہ کو بیباکیاں سکھاؤ حجاب شرم و حیا اٹھاؤبھلا کے مارا تو خاک مارا لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر

۵

نہ ہر بشر کا جمال ایسا نہ ہر فرشتے کا حال ایساکچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر

۶

الٰہی قاصد کی خیر گزرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کےصبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر

۷

جناب سلطان عشق وہ ہے کرے جو اے داغؔ اک اشارہفرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر

۵۰ / ۱۷۹