کلامِ داغردیف ت
کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درست
۱
کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درستوہ نادرست بھی جو کہیں کہیے ہاں درست
۲
تھوڑے سے دن بہار کے ہیں کس امید پرکرتے ہیں اپنے مرغ چمن آشیاں درست
۳
کچھ میں بھی اپنا حال طبیعت بیاں کروںگر ہو مزاج آپ کا اے مہرباں درست
۴
اس کو درستی دل عاشق سے کیا غرضجس بد زبان کی نہیں اب تک زباں درست
۵
آنکھوں میں رہ کہ دل میں ٹھہر تیرے واسطےآراستہ ہر ایک مکاں ہر مکاں درست
۶
ہر روز تازیانہ زلف دراز سےتو نے بھی دل کو خوب کیا میری جاں درست
۷
آتا ہے سامنے جو وہ غارت گر شکیباوسان داغؔ رہتے ہیں اپنے کہاں درست
۴۱ / ۱۷۹