کلامِ داغردیف و

اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کو

۱

اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کوجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کو

۲

کبھی ایما نہ کنایہ نہ اشارہ ہم کوکم نگاہی نے تری جان سے مارا ہم کو

۳

ہم کسی زلف پریشاں کی طرح اے تقدیرخوب بگڑے تھے مگر خوب سنوارا ہم کو

۴

جب کھنچے ان سے ہوئے اور زیادہ مضطرمرض عشق کے پرہیز نے مارا ہم کو

۵

روز تکرار کرے کون خریداروں سےدل کی اس گرمئ بازار نے مارا ہم کو

۶

آپ سے اب نہ بنے گا کوئی سودا اپناپھیر دیجے دل بیتاب ہمارا ہم کو

۷

بحر ہستی میں ہوئے کشتیئ طوفانی ہمنہیں ملتا کہیں اے داغؔ کنارہ ہم کو

۱۰۵ / ۱۷۹