کلامِ داغردیف و

دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبرو

۱

دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبروجاتا ہے اک اسیر ستم گر کے روبرو

۲

اس بت میں اک خدائی کا جلوہ ہے ورنہ شیخسجدہ کئے سے فائدہ پتھر کے روبرو

۳

آنسو بہا رہا ہوں خط یار پڑھ کے میںیوں دانہ ڈالتا ہوں کبوتر کے روبرو

۴

حاصل ہوئی بھی عقل فلاطوں اگر تو کیاچلتی نہیں کسی کی مقدر کے روبرو

۵

اے داغؔ ہوگا ہم سے کسی کا جواب کیامقدار چشم کیا ہے سمندر کے روبرو

۱۰۶ / ۱۷۹