کلامِ دردردیف الف
قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
۱
قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھاپر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا
۲
رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضورشمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
۳
ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکنمیں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا
۴
باوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کےوہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا
۵
پرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھاکوئی بھی داغ تھا سینے میں کہ ناسور نہ تھا
۶
محتسب آج تو مے خانے میں تیرے ہاتھوںدل نہ تھا کوئی کہ شیشے کی طرح چور نہ تھا
۷
دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانااس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا
۳ / ۲۸