کلامِ دردردیف الف

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

۱

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیا

۲

تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفاپر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا

۳

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مریجی میں یہ کس کا تصور آ گیا

۴

میں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی باتپر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا

۵

پی گئی کتنوں کا لوہو تیری یادغم ترا کتنے کلیجے کھا گیا

۶

مٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچکدردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا

۴ / ۲۸