کلامِ دردردیف ے
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
۱
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلےیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے
۲
کس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوںدریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے
۳
ہم بھی جرس کی طرح تو اس قافلے کے ساتھنالے جو کچھ بساط میں تھے سو سنا چلے
۴
کہہ بیٹھیو نہ دردؔ کہ اہل وفا ہوں میںاس بے وفا کے آگے جو ذکر وفا چلے
۱۸ / ۲۸