کلامِ دردردیف ے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

۱

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلےجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے

۲

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہےہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

۳

کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صباایک دم آئے ادھر اودھر چلے

۴

دوستو دیکھا تماشا یاں کا سبتم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے

۵

آہ بس مت جی جلا تب جانیےجب کوئی افسوں ترا اس پر چلے

۶

ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوستزخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے

۷

شمع کے مانند ہم اس بزم میںچشم تر آئے تھے دامن تر چلے

۸

ڈھونڈھتے ہیں آپ سے اس کو پرےشیخ صاحب چھوڑ گھر ،باہر چلے

۹

ہم نہ جانے پائے باہر آپ سےوہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے

۱۰

ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولےساتھ اپنے اب اسے لے کر چلے

۱۱

جوں شرر اے ہستیٔ بے بود یاںبارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے

۱۲

ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤجب تلک بس چل سکے ساغر چلے

۱۳

دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سبکس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

۱۹ / ۲۸