کلامِ دردردیف ن
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
۱
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
۲
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنیافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
۳
ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگارہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں
۴
کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاطپر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں
۵
تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگکنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں
۶
اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سےمیں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں
۱۴ / ۲۸