کلامِ دردردیف و
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو
۱
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو
۲
نہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہوچھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو
۳
عجب عالم ہے ایدھر سے ہمیں ہستی ستاتی ہےادھر سے نیستی آتی ہے دوڑی عذر خواہی کو
۴
نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سےگنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو
۵
نہ لازم نیستی اس کو نہ ہستی ہی ضروری ہےبیاں کیا کیجیے اے دردؔ ممکن کی نناہی کو
۱۵ / ۲۸