کلامِ دردردیف و
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
۱
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو
۲
تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہےہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو
۳
نہ تنہا کچھ یہی اطفال دشمن ہیں دوانوں کےبھرے ہے کوہ بھی دیکھا تو یاں پتھروں سے داماں کو
۴
جھمکتے ہیں ستاروں کی طرح سوراخ ہستی کےچھپایا گو کہ جوں خورشید میں داغ نمایاں کو
۵
نہ واجب ہی کہا جاوے نہ صادق ممتنع اس پرکیا تشخیص کچھ ہم نے نہ ہرگز شخص امکاں کو
۱۶ / ۲۸