دیوانِ غالب کاملردیف و
اگر وہ آفتِ نظارہ جلوہ گستر ہو
۱
اگر وہ آفتِ نظارہ جلوہ گستر ہوہلال، ناخنکِ دیدہ ہائے اختر ہو
۲
بہ یادِ قامت، اگر ہو بلند آتشِ غمہر ایک داغِ جگر، آفتابِ محشر ہو
۳
ستم کشی کا، کیا دل نے، حوصلہ پیدااب اُس سے ربط کروں جو بہت ستم گر ہو
۴
عجب نہیں، پئے تحریرِ حالِ گریۂ چشمبہ روئے آب جو، ہر موج، نقشِ مسطر ہو
۵
امیدوار ہوں، تاثیرِ تلخ کامی سےکہ قندِ بوسۂ شیریں لباں مکرر ہو
۶
صدف کی، ہے ترے نقشِ قدم میں، کیفیّتسرشکِ چشمِ اسدؔ، کیوں نہ اس میں گوہر ہو
۸۶ / ۱۹۳