دیوانِ غالب کاملقطعات

ہند میں اہلِ تسنّن کی ہیں دو سلطنتیں

۱

ہند میں اہلِ تسنّن کی ہیں دو سلطنتیںحیدرآباد دکن، رشکِ گلستانِ ارم

۲

رام پور، اہلِ نظر کی ہے نظر میں وہ شہرکہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم

۳

حیدر آباد بہت دور ہے، اس ملک کے لوگاُس طرف کو نہیں جاتے ہیں، جو جاتے ہیں تو کم

۴

رام پور آج ہے وہ بقعۂ معمور کہ ہےمرجع و مجمع، اشرافِ نژادِ آدم

۵

رام پور اک بڑا باغ ہے، از روئے مثالدل کش و تازہ و شاداب و وسیع و خرم

۶

جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیںہے اسی طور پہ یاں، دجلہ فشاں دستِ کرم

۷

ابرِ دست کرم کلب علی خاں سے مدامدُرِّ شہوار ہیں، جو گرتے ہیں قطرے پیہم

۸

صبح دم باغ میں آ جائے، جسے نہ ہو یقیںسبزہ و برگِ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم

۹

حبذا! باغِ ہمایوں تقدس آثارکہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالانِ حرم

۱۰

مسلکِ شرع کے ہیں، راہرو و راہ شناسخضر بھی یاں اگر آ جائے، تو لے ان کے قدم

۱۱

مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخناس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق، رقم

۱۲

حق سے کیا مانگیے؟ ان کے لیے جب ہو موجودملک و گنجینہ و خیل و سپہ و کُوس و علم

۱۳

ہم نہ تبلیغ کے مائل، نہ غلو کے قائلدو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم

۱۴

یا خدا! غالبِؔ عاصی کے خداوند کو دےوہ وہ چیزیں کہ طلب گار ہے جن کا، عالم

۱۵

اولاً، عمرِ طبیعی بہ دوامِ اقبالثانیاً، دولتِ دیدارِ شہنشاہِ امم

۱۷۹ / ۱۹۳