دیوانِ غالبردیف الف
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
۱
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
۲
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا ربہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
۳
بے دماغِ خجلت ہوں رشکِ امتحاں تا کےایک بے کسی تجھ کو عالم آشنا پایا
۴
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
۵
خاک بازیٔ امید، کارخانۂ طفلییاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
۶
کیوں نہ وحشتِ غالبؔ باج خواہِ تسکیں ہوکشتۂ تغافل کو خصمِ خوں بہا پایا
۴ / ۳۰۷