دیوانِ غالبردیف الف

ستائش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا

۱

ستائش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کاوہ اک گُلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاقِ نسیاں کا

۲

بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کاکہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا

۳

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع، میرے نالوں کولیا دانتوں میں جو تنکا، ہوا ریشہ نَیَستاں کا

۴

دکھاؤں گا تماشہ، دی اگر فرصت زمانے نےمِرا ہر داغِ دل، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا

۵

کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نےکرے جو پرتوِ خُورشید عالم شبنمستاں کا

۶

مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کیہیولٰی برقِ خرمن کا، ہے خونِ گرم دہقاں کا

۷

اُگا ہے گھر میں ہر سُو سبزہ، ویرانی تماشہ کرمدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے، میرے درباں کا

۸

خموشی میں نہاں، خوں‌گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیںچراغِ مُردہ ہوں، میں بے زباں، گورِ غریباں کا

۹

ہنوز اک "پرتوِ نقشِ خیالِ یار" باقی ہےدلِ افسردہ، گویا، حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

۱۰

بغل میں غیر کی، آج آپ سوتے ہیں کہیں، ورنہسبب کیا خواب میں آ کر تبسّم ہائے پنہاں کا

۱۱

نہیں معلوم، کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گاقیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

۱۲

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔکہ یہ شیرازہ ہے عالَم کے اجزائے پریشاں کا

۱۱ / ۳۰۷