دیوانِ غالبردیف الف

نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا

۱

نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میراحبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

۲

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہےکہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

۳

رہِ خوابیدہ، تھی گردن کشِ یک درس آگاہیزمیں کو سیلیٔ استاد ہے، نقشِ قدم میرا

۴

سراغ آوارہ عرضِ دو عالم شورِ محشر ہوںپر اَفشاں ہے غبار، آں سوئے صحرائے عدم، میرا

۵

نہ ہو وحشتِ کشِ درسِ سرابِ سطرِ آگاہیغبارِ رہ ہوں، بے مدعا ہے پیچ و خم میرا

۶

ہوائے صبح، یک عالم گریباں چاکیٔ گل ہےدہانِ زخم پیدا کر، اگر کھاتا ہے غم میرا

۷

اسدؔ، وحشت پرستِ گوشہ تنہائیٔ دل ہوںبہ رنگِ موجِ مے، خمیازہ ساغر ہے، رم میرا

۱۲ / ۳۰۷