دیوانِ غالبردیف الف
کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟
۱
کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا
۲
کس کا خیال آئینۂ انتظار تھاہر برگِ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
۳
جوں غنچہ و گل، آفتِ فالِ نظر نہ پوچھپیکاں سے تیرے، جلوۂ زخم، آشکار تھا
۴
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حسابخونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
۵
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزوتوڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا
۶
دیکھی وفائے فرصتِ رنج و نشاطِ دہرخمیازہ، یک درازیٔ عمرِ خمار تھا
۷
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میںجاں دادۂ ہوائے سرِ رہ گزار تھا
۸
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حالہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
۹
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر ابدیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
۱۰
صبحِ قیامت ایک دُمِ گرگ تھی، اسدؔجس دشت میں وہ شوخِ دو عالم شکار تھا
۱۸ / ۳۰۷