دیوانِ غالبردیف الف

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

۱

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

۲

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

۳

وائے دیوانگیٔ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا

۴

جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہےجوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

۵

عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھعیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

۶

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا

۷

عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانالذّتِ ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا

۸

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

۹

حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ!جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

۱۹ / ۳۰۷