دیوانِ غالبردیف الف

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

۱

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیازخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

۲

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلکہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے "کیا“؟

۳

حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہکوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟

۴

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میںعذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

۵

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہییہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

۶

خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوںہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا

۷

ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں ، کھائیں گے کیا؟

۲۱ / ۳۰۷