دیوانِ غالبردیف ی
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
۱
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
۲
ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
۳
حالاں کہ ہے یہ سیلیٔ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
۴
کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
۵
کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیابس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
۶
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میںفرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے
۷
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ ”داغ“ جگر کا نشان ہے
۸
ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدرغالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے
۹
دلّی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ متبے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
۱۴۹ / ۳۰۷