دیوانِ غالبردیف ی

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

۱

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

۲

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے

۳

کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی، میری دوست داری ہائے ہائے

۴

عمر بھر کا تو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے

۵

زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگییعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے

۶

گل فشانی ہائے نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے

۷

شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے

۸

خاک میں ناموسِ پیمانِ محبّت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے

۹

ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری ہائے ہائے

۱۰

کس طرح کاٹے کوئی شب‌ ہائے تارِ برشکالہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے

۱۱

گوش مہجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل تِس پر یہ نا امّیدواری ہائے ہائے

۱۲

عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگرہ گیا، تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری ہائے ہائے

۱۳

گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔمیری دلّی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے

۱۵۰ / ۳۰۷