دیوانِ غالبردیف ی
آپ نے مَسَّنيَ الضُّر کہا ہے تو سہی
۱
آپ نے مَسَّنيَ الضُّر کہا ہے تو سہییہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی
۲
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سرذہن میں خوبیٔ تسلیم و رضا ہے تو سہی
۳
ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جائے گی عُمرنہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی
۴
دوست ہی کوئی نہیں ہے، جو کرے چارہ گرینہ سہی، لیک تمنّائے دوا ہے تو سہی
۵
غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اُس نےنہ سہی ہم سے، پر اُس بُت میں وفا ہے تو سہی
۶
نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں مَیںکچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
۷
کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔشہرۂ تیزیٔ شمشیرِ قضا ہے تو سہی
۲۴۶ / ۳۰۷