دیوانِ غالبردیف ی
نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہے
۱
نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہےکہ خارِ خشک کو بھی دعویٔ چمن نسبی ہے
۲
ہوا وصال سے شوقِ دلِ حریص زیادہلبِ قدح پہ، کفِ بادہ، جوشِ تشنہ لبی ہے
۳
خوشا! وہ دل کہ سراپا طلسمِ بے خبری ہوجنونِ یاس و الم، رزقِ مدعا طلبی ہے
۴
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
۵
دلا یہ درد و الم بھی تو مُغتَنَم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
۶
چمن میں کس کی، یہ برہم ہوئی ہے، بزمِ تماشا؟کہ برگ برگِ سمن، شیشہ ریزۂ حلبی ہے
۷
امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنیعلی، ولی، اسد اللّٰہ، جانشینِ نبیؐ ہے
۱۵۳ / ۳۰۷