دیوانِ غالبردیف ی

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

۱

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

۲

کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے

۳

کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدارحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے

۴

ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنیاے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے

۵

مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے

۶

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے

۷

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔعالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے

۸

پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے، اسدؔدل وقفِ درد رکھ کہ فقیروں کا مال ہے

۱۵۲ / ۳۰۷