دیوانِ غالبردیف ی

ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے

۱

ہے آرمیدگی میں نِکوہِش بجا مجھےصبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے

۲

ڈھونڈے ہے اس مغنّیٔ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے

۳

مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیٔ خیالتا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے

۴

کرتا ہے بس کہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے

۵

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

۶

ہے پیچ تابِ رشتۂ شمعِ سحر گہیخجلت گدازیٔ نفسِ نا رسا مجھے

۷

واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوزیاں شعلۂ چراغ ہے، برگِ حنا مجھے

۸

پرواز ہا نیازِ تماشائے حسنِ دوستبالِ کشادہ ہے، نگہِ آشنا مجھے

۹

از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہےموجِ غبارِ سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے

۱۰

تا چند پست فطرتیٔ طبعِ آرزو؟یا رب ملے بلندیٔ دستِ دعا مجھے

۱۱

یاں آب و دانہ، موسمِ گل میں، حرام ہےزنارِ واگسستہ ہے، موجِ صبا مجھے

۱۲

یک بار امتحانِ ہوس بھی ضرور ہےاے جوشِ عشق، بادۂ مرد آزما مجھے

۱۳

میں نے جنوں سے کی جو، اسدؔ، التماسِ رنگخونِ جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے

۱۶۰ / ۳۰۷