دیوانِ غالبردیف ی
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
۱
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
۲
شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغتکلیفِ پردہ داریٔ زخمِ جگر گئی
۳
وہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاںاٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی
۴
اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میںبارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی
۵
دیکھو تو دل فریبیٔ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی
۶
ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی
۷
نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
۸
فردا و دی کا تفرِقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
۹
مارا زمانے نے اسدؔ اللّٰہ خاں تمھیںوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
۱۶۹ / ۳۰۷