دیوانِ غالبردیف ی
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
۱
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
۲
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
۳
ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پِیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
۴
تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیممیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
۵
تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کِیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے
۶
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اِک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے
۷
اے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھناتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
۱۷۰ / ۳۰۷