دیوانِ غالبردیف ی
کوئی امّید بر نہیں آتی
۱
کوئی امّید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
۲
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
۳
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی
۴
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبعیت ادھر نہیں آتی
۵
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی
۶
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی
۷
داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
۸
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی
۹
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی
۱۰
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
۱۷۲ / ۳۰۷