دیوانِ غالبردیف ی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
۱
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
۲
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
۳
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
۴
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
۵
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
۶
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہےنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
۷
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے
۸
ہم کو ان سے وفا کی ہے امّیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے
۹
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گااَور درویش کی صدا کیا ہے
۱۰
جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے
۱۱
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
۱۷۳ / ۳۰۷