دیوانِ غالبردیف ی
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
۱
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہے
۲
پھِر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے
۳
قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے
۴
چشم دلاّلِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
۵
وہ ہی صد رنگ نالہ فرسائیوہ ہی صد گونہ اشک باری ہے
۶
دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے
۷
جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے
۸
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے
۹
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوج داری ہے
۱۰
ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے
۱۱
پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے
۱۲
پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلباشک باری کا حکم جاری ہے
۱۳
دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے
۱۴
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
۱۷۵ / ۳۰۷