دیوانِ غالبردیف ی
نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کی
نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیٔ مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی
کروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہ پر کی
کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس، شایدیہ جایا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
غرورِ لطفِ ساقی نشۂ بے باکیٔ مستاںنمِ دامانِ عصیاں ہے، طراوت موجِ کوثر کی
تھکا جب قطرہ بے دست و پا بالا دویدن سےزِ بہرِ یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی
بہ جز دیوانگی ہوتا نہ انجامِ خود آرائیاگر پیدا نہ کرتا آئینہ زنجیر جوہر کی
اسدؔ، جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا!ڈبوتا چشمۂ حیواں میں، گر، کشتی سکندر کی
۱۷۷ / ۳۰۷