دیوانِ غالبردیف ی

نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کی

۱

نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی

۲

رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی

۳

پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیٔ مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی

۴

کروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہ پر کی

۵

کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟

۶

مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس، شایدیہ جایا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی

۷

غرورِ لطفِ ساقی نشۂ بے باکیٔ مستاںنمِ دامانِ عصیاں ہے، طراوت موجِ کوثر کی

۸

تھکا جب قطرہ بے دست و پا بالا دویدن سےزِ بہرِ یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی

۹

بہ جز دیوانگی ہوتا نہ انجامِ خود آرائیاگر پیدا نہ کرتا آئینہ زنجیر جوہر کی

۱۰

اسدؔ، جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا!ڈبوتا چشمۂ حیواں میں، گر، کشتی سکندر کی

۱۷۷ / ۳۰۷