دیوانِ غالبردیف ی

بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے

۱

بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے

۲

پنہاں تھا دام، سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

۳

ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے

۴

سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے

۵

تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

۶

لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

۷

اللّٰہ ری تیری تندیٔ خُو جس کے بِیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے

۸

اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے

۹

نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھِنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے

۱۰

چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے

۱۷۸ / ۳۰۷