دیوانِ غالبردیف ی
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے
۱
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے سائے سے، سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
۲
قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے
۳
غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے
۴
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
۵
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمھارے آئیو، اے طُرّہ ہائے خَم بہ خَم آگے
۶
دل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
۷
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
۱۸۸ / ۳۰۷