دیوانِ غالبردیف ی
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجااک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چالسست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہمآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہکہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخنشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علمتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالآستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
۱۸۹ / ۳۰۷