ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Editors' notes

سے ہی: اصل نسخے میں "جب آنکھ سے ہی" ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں "جب آنکھ ہی سے" رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔ — اعجاز عبید مزید: بعض فاضل مرتبین نے "سے ہی" کو قابلِ اعتراض سمجھ کر، اپنے نسخوں میں اِسے "ہی سے" بنا دیا ہے۔ غالبؔ کا اصرار، بظاہر، "آنکھ" پر نہیں، آنکھ سے "ٹپکنے" پر ہے۔ چنانچہ متن میں قدیم نسخوں کا اندراج برقرار رکھا گیا۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 6 of 10 in “⁨ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۰